ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وزیراعظم نریندر مودی سے راہل گاندھی کی ملاقات؛ کیا نوٹ بندی پر اپوزیشن کا اتحاد ٹوٹ گیا ؟

وزیراعظم نریندر مودی سے راہل گاندھی کی ملاقات؛ کیا نوٹ بندی پر اپوزیشن کا اتحاد ٹوٹ گیا ؟

Fri, 16 Dec 2016 17:51:59    S.O. News Service

ئی دہلی 16/ دسمبر (ایس او نیوز/ ایجنسی) نوٹ بندي کو لے کر صدر سے ملاقات سے پہلے اپوزیشن کا اتحاد ٹوٹ گیا ہے. اس کے لئے اپوزیشن جماعتوں نے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے. اپوزیشن نے سوال اُٹھایا ہے کہ کانگریس نے وزیراعظم مودی سے اکیلے ملاقات کیوں کی. کیا باقی جماعتوں کو کسانوں کی فکر نہیں ہے ؟ اس کے ساتھ ہی اپوزیشن نے یہ بھی کہا کہ ہم 20 دنوں سے ایوان میں کہہ رہے ہیں کہ وزیراعظم مودی کو آنا چاہئے، پھر کانگریس کو اکیلے جا کر ان سے ملنے کی کیا ضرورت تھی؟

ایس پی، بی ایس پی، بائیں بازو، این سی پی اور ڈی ایم نے کیا انکار
دراصل، 16 پارٹیاں آج صدر سے ملاقات کرنے والی تھیں، لیکن بعد میں سماج وادی پارٹی، ڈی ایم بی ایس پی، این سی پی اور لیفٹ پارٹیوں نے ساتھ جانے سے انکار کر ديا كانگریس کے ساتھ جے ڈی یو، ترنمول اور آر جے ڈی کے رہنماؤں نے صدر سے نوٹ بندي کے معاملے پر ملاقات کی. کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی صدر سے ملاقات کرنے والے وفد میں شامل تھیں.

صدر سے ملاقات کے بعد کھرگے کا بیان
صدر سے ملاقات کے بعد کانگریس کے لیڈر ملک ارجن کھرگے نے کہا کہ نوٹ بندي کے معاملے پر صدر سے ملاقات کی. حکومت نوٹ بندي پر بحث کو تیار نہیں ہے. ہم لوگوں کا مسئلہ ایوان میں رکھنا چاہتے تھے. پارلیمنٹ میں تعطل کے لئے حکومت ذمہ دار ہے. نوٹ بندي کے فیصلے سے عام آدمی، کسان اور مزدور پریشانیوں میں مبتلا ہوگئے ہیں.

راہل گاندھی نے کی پی ایم مودی سے ملاقات
اس سے پہلے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی اور کانگریس کے سرکردہ لیڈروں نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی اور انہیں قرض معافی سمیت کسانوں کے مطالبات اور نوٹ بندي کی وجہ سے ہو رہے مسائل کو لے کر ایک میمورنڈم سونپا. دراصل، گزشتہ کافی وقت سے راہل گاندھی نوٹ بندي کو لے کر پی ایم مودی پر نشانہ سادھ رہے ہیں. حال  ہی میں انہوں نے پی ایم مودی پر ذاتی بدعنوانی کا الزام بھی لگایا تھا.

راہل گاندھی کی مودی سے کیا بات چیت ہوئی :

راہل گاندھی جمعہ کو کانگریس وفد کے ساتھ نریندر مودی سے ملنے پہنچے. پارلیمنٹ احاطے میں پی ایم کے آفس میں تقریبا 10 منٹ تک ملاقات جاری رہی. راہل نے کہا، '' ہم نے وزیر اعظم سے کہا وہ جلد از جلد کسانوں کو ریلیف دیں اور ان کا قرضہ معاف کریں. پی ایم نے مانا کہ کسانوں کا مسئلہ سنگین ہے. قرض معاف کرنے کی بات پر انہوں نے کچھ نہیں کہا. صرف سنا. '' ادھر، میڈیا رپورٹس کے مطابق، مودی نے راہل سے کہا '' ایسے ہی ملتے رہیں. راہل نے ملاقات کے بعد کہا کہ، پورے ملک میں کسان خودکشی کر رہے ہیں. حکومت نے گیہوں پر سے امپورٹ ڈیوٹی ہٹا لی ہے یہ نقصان پہنچانے والا قدم ہے- جس طرح سے حکومت نے ایک لاکھ 40 ہزار کروڑ روپے معاف کئے. اسی طرح کسانوں کا قرضہ بھی معاف کریں. کرناٹک، مہاراشٹر، یوپی، پنجاب کی بات اٹھائی گئی. پنجاب میں ہر روز ایک کسان خود کشی کر رہا ہے. ہم نے کہا ہے کہ جلد از جلد وہ ہندوستان کے کسانوں کو ریلیف دیں.

 کانگریس لیڈر آنند شرما نے کہا، '' ہم نے وزیر اعظم سے مل کر کسانوں کے مسائل کو اٹھایا. ہمارے پاس 2 کروڑ کسانوں کے تحریری میمورنڈمس تھے. اسے ہم نے وزیر اعظم کے سامنے رکھا. اس میں پنجاب کے 50 لاکھ کسانوں کا مطالبہ شامل ہے. ''  پنجاب کے کانگریس لیڈر کیپٹن امریندر سنگھ بھی اس وفد میں شامل تھے. انہوں نے کہا، '' کسانوں کے قرض، خودکشی اور ایم ایس پی مسئلے پر ہم وزیر اعظم سے ملے. انہوں نے معاملہ حل کرنے کا وعدہ کیا. ''
 

راہل نے پی ایم مودی پر لگایا تھا ذاتی بدعنوانی کا الزام
راہل گاندھی نے بدھ کو دعوی کیا تھا کہ ان کے پاس وزیر اعظم نریندر مودی سے منسلک ایسی معلومات ہے جس سے ان کے 'نوٹ بندي کے فیصلے کا غبارہ ' پھٹ جائے گا، لیکن انہیں پارلیمنٹ میں بولنے نہیں دیا جا رہا ہے. پریس کانفرنس کے دوران راہل نے سابق امریکی صدر جارج بش کے انداز میں صحافیوں سے 'ان ہونٹوں کی زبان پڑھنے' کے لئے کہا، اور اعلان کیا کہ ان کے پاس ایسی معلومات ہے، جس سے وزیر اعظم نریندر مودی کے 'ذاتی کرپشن' کی پول کھل جائے گی ...

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس بغیر کام کاج کے ہوا ختم
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس بغیر کسی کام کاج کے نوٹ بندي کے لئے ہو رہے ہنگامے کی نذر چڑھ گیا. پورے سیشن کے دوران نوٹ بندي کو لے کر ہنگامہ ہوتا رہا. حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر چرچا کرنے سے راہ فرار اختیار کرنے کا الزام لگاتے رہے۔


Share: